18/04/2025
**اجڑی انارکلی
اور
ایسٹر مبارک **
میرا بچپن، جوانی اور زندگی کی چوتھی دہائی کے پائیدان پہ قدم رکھنے تک کا وقت تو لاہور ہی میں گزرا ہے اور ہماری تربیت کچھ ایسے ماحول میں ہوئی کہ بچپن سے ہی چند خصوصی مسیحی تہوار جیسے کرسمس, ایسٹر اور گڈ فرائی ڈے کا تذکرہ ہمارے گھر میں ہوتا ہی رہتا تھا.
شائد اس لئے کہ ابا مرحوم نے سیکنڈری سکول تک تعلیم مشنری سکول سے حاصل کی تھی.
پھر جب دورانِ ملازمت ہماری بنک سکوئیر برانچ لاہور میں تعیناتی ہوئی تو مسیحی دوست بھی شریک کارکن تھے اور ہم ان کو کرسمس اور ایسٹر کی تہنیت بھی پیش کرتے تھے اور ان تہواروں پہ آن سے کیک اور مٹھائی کا مطالبہ بھی کرتے تھے.
بنک آنے والے چند ایسے کسٹمر بھی تھے
جن کو ہم کرسمس اور ایسٹر پہ مبارک باد پیش کرتے تھے. اور یوں ایک دوسرے کی خوشیوں میں شراکت کی سانجھ کا عملی مظاہرہ ہوتا تھا.
سمن آباد میں میرے پڑوس میں دو تین مسیحی گھرانے آباد تھے جن کو ہم ہر عید پہ کیک بھیجتے تھے.
باقی گلاسگو میں تو ہمارا اپنے پڑوسیوں سے اور ان کا ہمارے ساتھ مثالی بھائی چارے کا رشتہ گزشتہ تین دہائیوں سے قائم ہے.
آج ینگ فوکس لیگ کے تین ارکان، بشمول میرے، پروفیسر مسعود زیدی، اور مشہور سٹیج، ٹی وی اور ریڈیو کے فنکار جاوید رضوی صاحب کے ہمراہ ہم انارکلی بازار، نیو انارکلی بازار، کچہری روڈ نیلا گنبد، بخشی مارکیٹ، خانم بازار، مشہور بانو بازار، دھنی رام روڈ اور انارکلی کی نواحی گلیوں اور مارکیٹوں میں.
گھومنے نکل گئے.
بچپن کی یادیں خوب خوب تازہ کیں وہ زمانہ یاد آیا جب اس علاقے میں ہم نیکر اور بنیان پہن کر بھاگے پھرتے تھے.
انارکلی بازار کے وسط میں دھنی رام روڈ کے بالکل بالمقابل واقع قدیمی درسگاہ سینٹ فرانسز ہائی سکول میں داخل ہوگئے. میرے دو بڑے بھائی اس سکول ہی میں پڑھتے تھے.
اس علاقے کی ایک ایک عمارت، دوکان اور دوکانداروں سے وابستگی کے قصے، سنتے اور سناتے مختلف گلیوں اور بازاروں سے جڑی یادوں کی سانجھ کرتے آہستہ آہستہ آگے رواں دواں تھے.
رستے میں کسی دوکان میں داخل ہوکر ان دوکانوں سے جڑی اپنی پرانی محبتوں کے قصےان دکانداروں کو سناتے سناتے اور وہاں بیٹھی آج کی نسل اپنے اجداد کا تزکرہ سن کر حیرت میں گم ہو جاتی یوں دلچسپ یادوں کے کیواڑ بھی کھلنے لگتے اور کڑی سے کڑی جڑنے لگتی.
قدم قدم پہ لاہور کی روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا، دوکاندار ہمیں چائے پانی سے تواضع کی دعوت دیتے ہم شکرگزار ہوتے ہوئے معزرت پیش کرتے اور خراماں خراماں اپنے، پرانے لاہور کی سیر کے سفر کو جاری رکھتے.
اس سیر کے سفر میں انارکلی میں داخل ہونے سے پہلے ہماری ملاقات سو سال سے قدیمی ادارے پبلک ڈرائنگ سٹیشنری کے روح رواں جناب وقار اشرف جعفری صاحب سے ہوگئ.
انہوں نے ہم تینوں کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور اپنے سو سالہ قدیمی ادارے کی تاریخ کا مختصر احوال سنایا اور محبتوں سے لبریز گرم گرم مشروبات سے ہماری تواضع بھی کی.
ان سے اجازت طلب کی اور ایس محکم الدین اینڈ سنز بیکرز کے سید محکم الدیں نقوی صاحب نے نہ صرف ہمارا شایانِ شان انداز میں استقبال کیا. بلکہ بیکری کے لزیز اور خستہ بسکٹوں سے ہماری تواضع بھی کی.
ایک سو پچاس سالہ قدیمی بیکری کے بارے میں خاکسار نے ایک کالم دو ڈھائی سال پہلے لکھ رکھا ہے. محکم الدین بیکری کے نقوی صاحب نے ہماری، بھائیوں اور قریبی عزیزوں سے بڑھ کر عزت افزائی اور پزیرائی فرمائی ان کا جس قدر بھی شکریہ ادا کروں کم ہے.
انارکلی کی اس سیر نے ہمیں کافی رنجیدہ بھی کیا،. آج کے انارکلی بازار کی شکل و صورت ہی بدل چکی ہے.
ہم شیخ عنایت اللہ اینڈ سنز کی ساٹھ کی دہائی کا سپر سٹور تلاش کرتے رہے، ہم شہرت یافتہ بمبئے کلاتھ ہاؤس کے وہ شو کیس تلاش کرتے رہے جن میں مردانہ سوٹوں کا کپڑا بہت دلکش انداز میں سجایا جاتا تھا، کہ ہر آنے والے کا دل چاہتا تھا کہ ایک دو سوٹ تو خرید ہی لے، بیسٹ واچ کمپنی اور ہارڈویئر کے قدیمی اور مشہور دوکان بمبئے سٹور ڈھونڈتا رہا، شہرت یافتہ پاکستان میڈیسن کمپنی کی تلاش میں مہو رہا ، چاولہ بوٹ اور کرنال شوز والوں کا کوئی اتا پتہ نہ مل سکا. شیریں کدہ اور قصر شیریں کے قصر کے آثار تک بھی نہ دیکھنے کو مل سکے.
میں مٹھائی کی مشہور زمانہ دوکان جالندھر موتی چور والوں کی دوکان دیکھنے تیز تیز قدم اٹھاتا گنپت روڈ کے کونے پہ جا کھڑا ہوا
اور یہ دیکھ کر دل مضمحل اور اداس سا ہوگیا کہ اس دوکان پہ بورڈ تو جالندھر موتی چور کا ہی تھا مگر اس دوکان پہ لڈو مٹھائی وغیرہ دیکھنے تک کو بھی نہ ملے بلکہ سموسوں کے خریداروں کا کافی رش تھا.
انارکلی کے اجڑنے کا از حد رنج ہوا.
کسی دور میں کچہری روڈ پہ
قانونی کتب فروشوں کی بہت سی دوکانیں تھیں. اب تو ایک دو لاء بک سٹور ہی موجود ہیں. باقی سب بک چکے ہیں.
اسی کچہری روڈ پر دیوار کے ساتھ ساتھ پچیس تیس ٹائپسٹ ہو روز دیکھنے کو ملتے تھے. انکے اڈے دو سٹول یا ایک سٹول، ٹائپ مشین اور ایک کرسی پہ مشتمل ہوتے تھے. سامنے کے سٹول پہ وہ اپنی ٹائپ مشین سجاتے تھے. اور دوسرے سٹول یا کرسی پہ بیٹھ کر لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق چٹھیاں، قانونی دستاویزات کی کاپیاں ٹائپ کر کے دیتے. طالب علموں کے اردو اور انگریزی کے تحقیقاتی مقالے ٹائپ کرتے تھے. یہ ایک باعزت روزگار تھا اور دن بھر ٹائپسٹ اپنی ٹائپ مشینوں پہ مصروف رہتے ان کی ٹائپ مشینوں کی چابیاں رولر پہ ٹک ٹک کے جلترنگ سے بجاتی رہتی تھیں.
آج اس دیوار کے ساتھ فقط دو تین ٹائپسٹ بیٹھے تھے. باقی سب یا تو مر کھپ گئے یا پھر کمپیوٹر کی سہولت نے انہیں چاروں خانے چت کر دیا تھا.
دلِ رنجیدہ کے ساتھ واپسی اختیار کی اور مشہور ادارے بائبل سوسائٹی کا بورڈ دیکھ کر قدم جم گئے اور گیٹ پہ موجود ذمہ دار سے علیک سلیک کے بعد بائیبل سوسائٹی کے میوزیم کو دیکھنے کا کہا، میوزیم کے اہلکاروں نے مسکراہٹوں بھری پزیرائی سے ہمارا استقبال کیا. فلم بندی اور تصاویر کی ممانعت کے باوجود ہمیں عکس بندی کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی.
میوزیم سے نکلتے ہوئے میں نے مناسب رقم چندے کے ڈبے میں بھی ڈالی تفاصیل بتانا نمود و نمائش کے زمرے میں آ جاتا ہے. اس ضمن میں تصاویر پروفیسر مسعود بھیجیں گے تو آپ کو روانہ کروں گا.
ہم نے میوزیم کے عملے کو ایسٹر کی تہنیت پیش کی سب سے مصافحہ بھی کیا.
وہاں کا عملہ ہم سب سے بیحد خوش تھا.
بھائی چارے کا یہ اظہار جغرافیائی حدود کا پابند نہیں. ملن ساری اور محبت کا یہ اظہار لاہور، پاکستان میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا یورپ اور امریکہ میں رہتے ہوئے ہم تارکین وطن کیلئے ازحد ضروری ہے.
ہم یورپ اور امریکہ پہنچ کر اظہار تشکر کے طور پر، اپنے خود اختیاری وطن کی تعریف و توصیف تو خوب کرتے ہیں
جو ازحد ضروری بھی ہے.
کہ وطن عزیز کی نسبت ان ممالک کا معیارِ زندگی اور سہولتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے
مگر دوستو ایسٹر یا کرسمس پہ ان کی خوشیوں میں شامل ہونے کےلئے ہمیں بھی عملی مظاہرہ کرنے میں تاخیر سے کام نہیں لینا چاہئے
اپنے وطن اور خود اختیاری وطن سے محبت ہم تمام تارکین وطن پہ لازم ہے. مجھے فخر ہے کہ میں ہر رات سونے سے پہلے پاکستان اور یوکے کے استحکام کی دعا مانگتا ہوں
میں دونوں ملکوں میں بسنے والی عوام کی فلاح اور پر سکون زندگی کی دعا مانگے بغیر کبھی نہیں سوتا
کیا آپ بھی؟؟؟
پاکستان کا تو بھول جائیں کیا آپ بھی سونے سے پہلے اپنے پیارے خود اختیاری وطن کی سلامتی و استحکام اور خوش حالی کی دعا مانگتے ہیں
اگر ایسا نہیں ہے تو آپ اس خود اختیاری وطن کی توصیف اور اس سے محبت کے کھوکھلے دعویدار ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں.
وفاداری بشرطِ استوار اصل ایماں ہے
تحریر
فصاحت علی سید
گلاسگو
حال وارد
لاہور