Papoo Lahori

Papoo Lahori This page will showcase everything about Lahore like food, history, people and best places to visit.

1980کیا آپ پہچان سکتے ہیں کہ یہ لاہور کی کون سی جگہ ہے؟
05/10/2026

1980کیا آپ پہچان سکتے ہیں کہ یہ لاہور کی کون سی جگہ ہے؟

1985کیا آپ پہچان سکتے ہیں کہ یہ لاہور کی کون سی جگہ ہے؟
04/10/2026

1985کیا آپ پہچان سکتے ہیں کہ یہ لاہور کی کون سی جگہ ہے؟

29/09/2026

باتیں لاہور کی
یادیں لاہور کی
**مال روڈ کے پرانے بتی والے چوک **

میرے محبوب شہر لاہور کی میرے بچپن کے دور کی ٹھنڈی سڑک (مال روڈ) پہ ٹولینٹن مارکیٹ سے جی پی او تک صرف دو تین ہی بتی والے چوک تھے.
پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں مال روڈ پر ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے آج کے لاہور کی طرح خود کار ٹریفک بتیوں کا جدید نظام نہیں تھا اور نہ ہی اُس دور کا لاہور شہر اس قدر پر خطر تھا کہ پورے شہر کو حفاظتی کیمروں کی حصار میں رکھا جائے . میرے زمانے کا لاہور بڑا پرامن، بندہ نواز اور نہائت پرسکون تھا.
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور میں ٹھنڈی سڑک پہ ان دوتین بتی والے چوراہوں پہ ٹریفک کنٹرول کا خود کار نظام نہ تھا، بلکہ ان بتی والے چوراہوں پہ ایک پولیس کانسٹیبل اس چوک کے قریب ایک کونے میں اونچی چوکی، کیبن یا بوتھ کہئے میں بیٹھ کر آتی جاتی ٹریفک کا جائزہ لیکر دستی سوئچ بورڈ کے بٹن ڈبا کر سرخ، پیلا اور سبز بلب روشن کرکے ٹریفک کنٹرول کرتا تھا.
پہلا بتی والا چوک پنجاب یونیورسٹی اور ٹولنٹن مارکیٹ کے قریب واقع تھا، اور اکثر اومنی بس کا کنڈکٹر مسافروں کو پہلا بتی والے چوک سٹاپ، کا ہانکا لگا کر ان کی منزل سے آگاہ کرتا تھا.

اُس دور میں سادہ لوح عوام مال روڈ پہ ان دستی کنٹرول والے بتی والے چوراہوں کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتے. اور سڑک کنارے کھڑے ہوکر سبز، سرخ اور پیلی بتیوں کی آنکھ مچولی سے دیر تک محظوظ ہوتے رہتے اور چوک میں اس کانسٹیبل کو تلاش کرتے جو اپنے اشاروں سے ٹریفک کو رواں دواں اور کنٹرول کرتا تھا.

دوسرا بتی والا چوک، کمرشل بلڈنگ کے آخری کونے، میکلیگن روڈ کراسنگ اور وائی، ایم، سی، اے بلڈنگ اور پاک ٹی ہاؤس کے پاس تھا،

مجھے آج بھی یاد ہے کہ ان بتی والے چوراہوں پہ ایک وقت میں دو ٹریفک کانسٹیبل ڈیوٹی سر انجام دیتے تھے ایک کانسٹیبل بلند چوکی یا کیبن میں بیٹھ کر مختلف بٹن دبا کر ٹریفک کو رواں دواں رکھتا تھا اور دوسرا کانسٹیبل چوراہے پہ ٹریفک کی بےضابطگی کرنے والوں کے چالان کاٹتا تھا.
ہاں کبھی کبھی بجلی کے تعطل کی صورت میں ٹریفک کانسٹیبل چوراہے پہ سفید اور کالی پٹی والی داہاری دار چوکی پہ چڑھ کر ٹریفک کو کنٹرول کرتا تھا
یہ یادیں اور باتیں اس دور کی ہیں ، جب مال روڈ پہ ٹریفک کا ایسا دباؤ نہ تھا جیسا رش آج کے مال روڈ پہ ہے
میرے دور میں مال روڈ پہ تانگوں ، بسوں اور سائیکلوں کا راج تھا یہ سب سواریاں شانہ بشانہ پیار محبت سے چلتیں. اور چیدہ چیدہ گاڑیاں اٹھلاتی ہوئی مال روڈ پہ نمودار ہوتیں اور پیدل چلنے والوں کے علاوہ سڑک پہ موجود دیگر سواریوں کی توجہ کا بھی مرکز بن جاتیں. بعد ازاں رکشوں کی آمد پہ مال روڈ کی پرسکون ٹریفک میں چٹاخ پٹاخ کے بے ہنگم شور کا اضافہ ہوگیا.

پچاس کی دھائی میں مال روڈ پہ موٹر کاروں کی نسبت . ذیادہ تر لاہور کی
** شاہی سواری** کا راج تھا. تانگے پہ بیٹھ کر مال روڈ پہ سفر اور سیر ایک دلچسپ تفریح تھی
اس تفریح پہ لاہوریئے خود بھی نکلتے اور لاہور آنے والے مہمانوں کو خصوصی طور پہ مال روڈ کی سیر کیلئے تانگوں پہ گھمانے لیکر جاتے تھے
زمزمہ توپ المشہور بھنگیوں کی توپ پہ سیاحوں کے ساتھ آنے والے بچے تو اس توپ سے دن رات چپکے نظر آتے تھے. وہ توپ کی ہر ممکنہ کلا کو یوں مڑوڑتے نظر آتے کہ شائد زمزمہ توپ بھی ان سے پناہ مانگتی ہوگی
اس زمزمہ چوک کے پاس ہی ہمارے دور کا مشہور و معروف تاریخی گول باغ واقع تھا.
اس چوک سے ذرا ہٹ کے پوسٹ ماسٹر جنرل کا دفتر اور سول سیکریٹیرٹ بھی تھا اور اسی زمزمہ توپ کے اُس طرف شہری نظامت کا مرکزی دفتر ٹاؤن ہال اور ٹاؤن ہال کے پہلو ہی میں شہر کا مرکزی فائر سٹیشن تھا جہاں چمچماتے سرخ فائر فائٹنگ انجن اپنے ایک کان میں بندے کی طرح پیتل کی بڑی سی گھنٹی سجائے، نو بیاہتا دلہن کی طرح سرخ جوڑا پہنے قطار اندر کھڑے سلامی کے منتظر نظر آتے تھے، اس زمزمہ توپ سے چند قدم آگے بڑھیں تو دوتین تاریخی عمارات ،پنجاب یونیورسٹی، میو سکول آف آرٹس حالیہ نیشنل کالج آف آرٹس اور عجائب گھر کی عمارت دیکھنے کو ملتی ہیں

میرے دور میں عجائب گھر، چڑیا گھر، لارنس گارڈن آج کا باغ جناح، مال روڈ کے خاص تفریحی مقامات تھے ،
مال روڈ پہ دیگر قدیمی عمارات کے علاوہ جی پی او، لاہور ہائی کورٹ، ای پلومر بلڈنگ،دیال سنگھ مینشن، شاہ دین بلڈنگ اور چئرنگ کراس پہ ملکہ کا بت اور اسمبلی ہال، مال روڈ کے ماتھے کا جھومر تھیں .
لاہور کے مقامی لوگوں کے علاوہ دیگر علاقوں کے لوگ بھی یہاں چُھٹی والے دن سیر و تفریح کے لئے جوک در جوک آتے تھے.
مال روڈ پہ قدیمی ریگل سینما اور چیرنگ کراس پہ پلازہ سینما انگلش فلموں کے شائقین کے از حد مقبول سینما گھر تھے.
یہ احوال مال روڈ پہ واپڈا ہاؤس، الفلاح بلڈنگ اور آج کے کاروباری پلازوں اور کمرشل سینٹرز کی پیدائش سے بہت پہلے کا ہے .
اس مال پہ وائی۔ایم۔سی۔اے، پرل کانٹینینٹل ہوٹل جو پہلےانٹر کانٹینینٹل ہوٹل کہلاتا تھا، لاہور جمخانہ جہاں اب قائداعظم لائبریری ہے، اور چیرنگ کراس پر اسمبلی ہال کے سامنے ،اور چڑیا گھر کے داخلی دروازے کے پہلو میں فری میسنز ہال تھا جو اب پنجاب کونسل آف دی آرٹس کے انصرام میں ہے. ابتدائی دور میں لاہور آرٹس کونسل ایک وسیع بنگلے پہ مشتمل تھا. از سر نو تعمیر کے بعد وسیع ہالوں کا اضافہ کیا گیا. اور اب الحمرا کی شناخت سے جانا جاتا ہے، یہ تاریخی عمارات بھی مال روڈ پر واقع ہیں.
ان عمارات کے علاوہ مال روڈ پہ ایچی سن کالج اور گورنر ہاؤس کی عمارات بھی قابل دید ہیں اور اس مال روڈ کا حسن ہیں
مگر یہ عمارتیں ہمارے جیسے غریب غرباء کی پہنچ اور دسترس سے از حد دور تھیں اور آج بھی ہیں

وقت گزرنے کے ساتھ مال روڈ کو کشادہ کیا گیا اور مال روڈ اپنی دو رویہ وسیع خوشبودار پھول دار کیاریوں اور سبزہ زار تختوں کے ساتھ ساتھ قدیمی سایہ دار درختوں کے حسن سے بھی محروم ہوتا چلا گیا.

آج کےمال روڈ پہ اب وہ پرانے بتی والے علامتی چوک بھی موجود نہ رہے، اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا مال روڈ کیا پورے لاہور میں خود کار الیکٹرانک ٹریفک کا نظام رائج ہوچکا ہے.
لاہور میں ٹریفک کا دباؤ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ خود کار ٹریفک سگنلز کے ساتھ ساتھ بڑھتی ٹریفک کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لئے بعض اوقات ایک ایک چوراہے پہ چار سے چھ ٹریفک وارڈن بھی موجود ہوتے ہیں مگر ٹریفک کا اژدھا انتظامیہ اور ٹریفک وارڈنز کے قابو سے باہر رہتا ہے.

ہمارے دور کے بتی والے چوک تو اب خواب و خیال ہوگئے ہیں.
اور ہم پرانے لاہور کی رونقوں رکھ رکھاؤ اور تہزیب سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں
مگر آج کا لاہور جس بھی رنگ، ڈہنگ میں جی رہا ہے
مجھے اس لاہور سے اتنا ہی انس، پیار محبت اور لگاؤ ہے جتنا مجھے معدودے چند بتی والے چوک اور مال روڈ لاہور سے تھا
ہسدا رہوئے لہور
وسدا رہوئے لہور
تحریر
فصاحت علی سید
گلاسگو

14/05/2026

*یادیں لاہور کی، باتیں لاہور کی*

***لاہور کے روشن ستارے***

لاہور صرف ایک شہر نہیں، ایک زندہ تاریخ ہے جو اپنی گلیوں، عمارتوں اور انسانوں کے ناموں میں سانس لیتی ہے۔ مگر افسوس کہ وقت کے دھندلکوں میں ہم ان روشن ستاروں کے نام بھولتے جا رہے ہیں جنہوں نے مذہب، رنگ اور نسل کی تفریق مٹا کر صرف انسانیت کی خدمت کو اپنا مذہب بنایا۔ یہ کالم انہی گمشدہ چراغوں کو دوبارہ جلانے کی ایک کوش ہے۔

یہاں آپ کو ملیں گے رائے بہادر میلہ رام، جنہوں نے لاہور کو پہلی بار بجلی اور چڑیا گھر عطا کیا۔ سر گنگا رام، جنہیں لاہور آج بھی "بابائے جدید" کہتا ہے۔ گلاب دیوی اور جانکی دیوی، جنہوں نے ماؤں بہنوں کے لیے اپنے نام کے ہسپتال وقف کیے۔ دیال سنگھ، لالہ لاجپت رائے، حکیم اجمل خان، بھگت سنگھ شہید اور دیگر بے شمار ہستیاں جن کی نیکیاں آج بھی اس شہر کی رگوں میں دوڑ رہی ہیں۔

انسانیت کی معراج صرف اور صرف انسانیت کی خدمت میں ہی مضمر ہے۔ وہ خدمت جو کسی نمود و نمائش کے بغیر، صرف فی سبیل اللہ، خوشنودیِ خدا کے لیے کی جائے۔ میرا رب یقیناً ان مخلص بندوں کو ان کی نیکیوں کا اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔

لاہور کی مٹی نے ہمیشہ ایسے ہی نیک دل انسانوں کو جنم دیا ہے جو آج بھی اس شہر کے ماتھے پر جھومر کی طرح چمک رہے ہیں۔ ان کا تذکرہ سنتے ہی دلوں میں ایک چراغ جل اٹھتا ہے۔ کیا بلند مرتبہ ہستیاں تھیں

*رائے بہادر میلہ رام*
لاہور کے رئیس ترین صنعت کار اور غریب پرور شخصیت۔ 1904 میں انہوں نے لاہور کا پہلا بجلی گھر لگایا اور سب سے پہلے داتا دربار علی ہجویریؒ کے مزار کو منور کیا۔ صرف یہی نہیں، اپنی مل سے ایک کنکشن کھینچ کر کربلا گامے شاہ کو بھی روشنی بخشی، کسی مذہبی تفریق کے بغیر۔
1921 میں انہوں نے مال روڈ پر اپنی 35 کنال سے زائد زمین لاہور کے چڑیا گھر کے لیے عطیہ کی۔ یہ چڑیا گھر جب تک قائم رہے گا، میلہ رام کا نام بھی زندہ رہے گا۔

*سر گنگا رام*
"بابائے جدید لاہور" کا خطاب پانے والی شخصیت۔ ان کی عطا کردہ یادگاریں آج بھی بولتی ہیں: گنگا رام ہسپتال، مائی بھاگو زچہ و بچہ ہسپتال، گنگا رام ہائی سکول جو بعد میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی بنا۔
انہوں نے اپنی رہائش گاہ "نابھا ہاؤس" ہیلی کالج آف کامرس کے قیام کے لیے وقف کر دی۔
ایچی سن کالج، میو سکول آف آرٹس یعنی آج کی NCA، لاہور میوزیم، اور شہر میں پانی کی سبیلیں بھی ان کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
میلہ رام کی طرح لاہور ہمیشہ سر گنگا رام کا ممنون رہے گا۔

*گلاب دیوی*
لاہور کی وہ بیٹی جس نے ٹی بی کے مریضوں کی بے لوث خدمت کو اپنا مشن بنایا۔ ان کے نام سے قائم "گلاب دیوی ہسپتال"
آج بھی لاکھوں غریب مریضوں کا سہارا ہے۔
یہ ہسپتال لالہ لاجپت رائے کی والدہ "گلاب دیوی" کی یاد میں 1934 میں قائم ہوا۔

*جانکی دیوی*

زچہ و بچہ کی صحت کے لیے وقف ہستی۔ "جانکی دیوی میٹرنٹی ہسپتال" ان کی محبت اور فکر کا زندہ ثبوت ہے۔

*دیال سنگھ مجیٹھیا*

تعلیم و صحافت کے عظیم محسن۔ دیال سنگھ کالج، دیال سنگھ لائبریری اور اخبار "The Tribune" ان کی عطا ہیں۔ لاہور کا ایک بڑا تعلیمی مکتب آج بھی ان کے نام سے چمک رہا ہے۔

*لالہ لاجپت رائے*
"شیرِ پنجاب" کے نام سے مشہور آزادی کے رہنما، مگر لاہور نے انہیں ایک معلم اور سماجی مصلح کے طور پر بھی دیکھا۔
انہوں نے نیشنل کالج لاہور کی بنیاد رکھی، D.A.V کالج کے بانی رکن رہے، اور 1921 میں Servants of the People Society قائم کی۔
1928 میں سائمن کمیشن کے خلاف لاہور میں احتجاج کرتے ہوئے زخمی ہوئے اور اسی شہر میں شہید ہوئے۔

ڈاکٹر جمعیت سنگھ

لاہور کے نامور معالج اور عوامی خادم۔ غریبوں کے لیے ان کا در ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔

*حکیم اجمل خان*

طبِ یونانی کے وہ آفتاب جن کی روشنی نے لاہور کے غرباء و نادار لوگوں کو صحت کا سہارا دیا۔
دہلی کے اس حکیم کا لاہور سے گہرا روحانی اور فلاحی رشتہ تھا۔ وہ بارہا لاہور تشریف لائے اور یہاں غریبوں کے لیے مفت طبی کیمپ لگائے۔
لاہور کا مشہور "اجمل خان ہسپتال" انہی کے نام اور فکر پر قائم ہے، جو آج بھی یونانی طب کے فروغ اور مفت علاج کا مرکز ہے۔

*بھگت سنگھ شہید*
لاہور کی مٹی کا وہ لعل جس نے جوانی کی قربانی سے شہر کو امر کر دیا۔
نیشنل کالج لاہور میں تعلیم کے دوران ہی انقلابی شعور نے ان کے سینے میں گھر کیا، اور سائمن کمیشن کے خلاف 1928 کے احتجاج میں وہ صفِ اول میں کھڑے تھے۔
لاہور سینٹرل جیل میں مقدمہ، وہی جیل جہاں انہیں 23 مارچ 1931 کو پھانسی دی گئی۔
آج بھی لاہور کا ہر نوجوان جب نیشنل کالج کے دروازے سے گزرتا ہے، تو اسے بھگت سنگھ کی للکار یاد آتی ہے: _"انقلاب زندہ باد!"_

لاہور کی مٹی کا یہ خاصہ ہے کہ یہ مذہب، رنگ اور نسل کی تفریق سے بالا ہو کر انسانیت کے خادم پیدا کرتی ہے۔ یہ ستارے بجھتے نہیں، کیونکہ ان کی روشنی خدمت کی بنیاد پر ہے۔ لاہور آج بھی ان کا ممنون ہے، اور رہے گا۔

سوچتا ہوں، خدا ان انسان دوست، غریب پرور، مومن صفت لوگوں کو آخرت میں کس انعام سے نوازے گا۔ یقیناً میرا رب کسی کی نیکیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔

میں بحیثیت ایک لاہوری، ان عظیم ہستیوں کا ممنون ہوں۔

تحریر
فصاحت علی سید
گلاسگو

26/01/2026

یادیں لاہور کی
باتیں لاہور کی

**اصلی اور زہر آلود دُھند **

لاہور کے شب و روز میں شدید موسمِ سرما میں پڑنے والی اصلی اور خالص دھند کا مجھے کئ سال کا مشاہدہ اور تجربہ ہے .

یہ اصلی دھند کا لفظ اس لئے استعمال کر رہا ہوں کہ ہمارے دور کی دھند فضائی آلودگیوں سے پاک تھی.

یہ دوسری بات ہے کہ اس دور میں بھی لوگ کھانسی نزلہ زکام کا شکار تو ہوتے تھے مگر اپنی نادانی کے سبب.
یوں ان موسمی بیماریوں کے باعث ڈاکٹروں اور حکیموں کا روزگار بھی چلتا رہتا تھا
مگر آج کی دھند میں ان امراض کا سبب یہ زہر آلود دھند ہے. اور ڈاکٹر، حکیم اور شفا خانوں میں مریضوں کی قطارے لگ جاتی ہیں.
اس دور میں ہم جب صبح صبح پرائمری سکول جو اردو بازار اور لوئیر مال کے سنگھم پہ واقع تھا روانہ ہوتے تو جیسے ہی موری دروازے سے باہر نکلتے تو سرکلر روڈ اور فصیل کے ارد گرد پھیلے تمام باغات نے سردی سے بچنے کیلئے دھند کا لحاف اوڑھ رکھا ہوتا تھا یوں اس گہری دھند میں چلتے ہوئے اکثر یہ گمان گزرتا تھا کہ آج سڑک پہ ہم اکیلے ہی رواں دواں ہیں
اس دور میں اس شدت کی سردی پڑتی تھی کہ صبح جب سکول پہنچتے تو سکول کی چھت کے کونوں میں رات بھر کی شدید سردی اور کُہر گرنے کے سبب برف کی تہیں جمی نظر آتیں تھیں. اس دھند میں ہم بچے منہ میں پینسل دبا کر سگریٹ نوشوں کا روپ دھارتے اور منہ سے دھوئیں کے بڑے بڑے بادل اڑا کر دل خوش کرتے

لاہور کی مشہور ٹھنڈی سڑک
حالیہ شارع قائد اعظم، جو اپنے قدیمی درختوں کے پھیلاؤ سے پوری سڑک کو ہر موسم میں تمازت سے بچائے کے لئے سایہ فگن رہتی تھی . اور ان درختوں کے دامن میں خوش رنگ پھولوں اور سبز گھاس کے تختے واقعی اس سڑک کے نام کی منہ بولتی تفسیر بن جاتے تھے.
( ٹھنڈی سڑک)
سو سردی کے موسم میں سورج ڈھلتے ہی ٹھنڈی سڑک کے یہ درخت بھی دھند میں آہستہ آہستہ ڈوبنے لگتے اور دھند میں چھپ کر یہ درخت دیو ہیکل جنوں کا روپ سا دھار لیتے تھے .
میں سرما کے اس موسم میں کبھی کبھار رات آٹھ نو بجے کے قریب جب ٹھنڈی سڑک سے پیدل لوہاری منڈی کو روانہ ہوتے تو سردی کی شدت سے ناک، منہ اور ہاتھ شل ہونا شروع ہوجاتے تیز تیز قدم اٹھاتے براستہ انارکلی جیسے ہی لوہاری دروازے میں داخل ہوتا تو یوں لگتا جیسے میں گھر کے گرم کمرے میں پہنچ گیا ہوں.

میں کہر آلود سرد راتوں میں ٹھنڈی سڑک کی سردی کی شدت اور اندرون لاہور شہر کے موسم میں اس واضع فرق کو ہمیشہ ہی محسوس کرتا تھا. کھلی سڑکوں کی نسبت تنگ گلیوں بازاروں اور دوکانوں کا رونق میلہ اندرون شہر کی مصروف زندگی ہمیشہ ہی ماحول کو گرمائے رکھتی تھی

کہر آلود سرد راتوں میں لوہاری دروازے کے باہر. پھل فروٹ بیچنے والوں کے علاوہ دو رویہ مونگ پھلی بیچنے والوں کے ٹھیلوں پہ دھرے آگ کے کُجوں میں سے اٹھتا دھواں آنے جانے والوں کے لئے خاموش اشتہار اور توجہ بنتا تھا. اس اشتہاری مہم کے باوجود ٹھیلے والے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد
**ایہہ مونگ پھلی گرم **
کا فلک شگاف نعرہ لگاتے.

لوہاری گیٹ کے باہر ہی قطار میں چلغوزے بیچنے والے بھی اپنے جہازی چھابڑوں میں چلغوزوں کی پہاڑیاں سجائے، گیس کے ہنڈولے روشن کئے گاہکوں کے منتظر ہوتے تھے.
اُس دور میں مونگ پھلی دو آنے کی پاؤ اور چلغوزہ دو آنے کے چھٹانک بکتے تھے.
محدود وسائل کے لوگ چار آنے کی آدھ کلو مونگ پھلی اور صاحبِ حیثیت لوگ ایک روپے کے آدھ کلو چلغوزے خرید کر بچوں اور گھر والی کی خوشیاں سمیٹتے. اور ہم سب بہن بھائی لحافوں میں دبک کے خشک میوں سے لطف اندوز ہوتے.
سنا ہے اب لاہور میں چلغوزہ ایسا نایاب خشک میوہ بن گیا کہ دس، بارہ ہزار روپے کلو میں ملنا بھی خوش قسمتی سمجھا جاتا ہے .

پرانے لاہور کے گلی کوچوں کی کَہر آلود راتوں میں آج بھی
**گرم آنڈے **
کی بازگشت سنائی دیتی ہے.
پھیری والے روزی روٹی کی تلاش میں
**گرم آنڈے، گرم آنڈے **
کا غوغہ مچاتے پہنچ جاتے ہیں
کسی دور میں شہر دار گرم انڈے بیچنے والوں پہ یہی شک کرتے تھے کہ وہ کچھوے کے انڈے بیچتے ہیں.
مگر اب تو لاہور میں مینڈک بھی خال خال ہی نظر آتے ہیں
بھلا یہ گرم انڈے والے اب کچھوے کے انڈے کہاں سے لائیں گے.
ہاں ان گرم انڈے والوں کے بارے میں اب بھی لوگ مشکوک رہتے ہیں کہ یہ کس جانور کے انڈے بیچتے ہیں.

ہمارے دور میں رات سمے
خوانچے والے پرانے لاہور کے گلی کوچوں میں
**ایہہ ریوڑی گلاباں والی، ایہہ چڑوے ریوڑیاں اور شکر قندی گرم **
کا ہانکا لگاتے آن پہنچتے تھے.
اور شوقین لوگ ان سے پسند کی ریوڑی، شکر قندی اور مونگ پھلی خریدتے اور لطف اندوز ہوتے تھے

مجھے یقین ہے کہ آج کی نسل شائد **چڑوے ** کے نام سے بھی شناسا بھی نہ ہو.
بس یہی فرق ہے
لاہور کی موسم سرما کی اصلی دھند اور آج کی زہر آلودہ دھند میں.
ہسدا رہوے لہور
وسدا رہوے لہور

تحریر
فصاحت علی سید
گلاسگو

25/08/2025

انگریزوں نے 1849ء میں سکھوں سے تختِ لاہور چھینا اور 1857ء میں تختِ دہلی پر بھی براجمان ہو گئے۔ لاہور میں فصیل کے باہر انہوں نے کچھ فاصلے پر ایک جدید لاہور کی بنیادیں ڈالیں۔ لگ بھگ سات کلو میٹر لمبی مال روڈ کی بنیاد 1851ء میں رکھی گئی اور سول انجینئر لیفٹیننٹ کرنل نیپئر اس کے نقشے اور تعمیر کا ذمہ دار تھا۔
یہیں گورنر ہاؤس بھی بنایا گیا۔ اس کے دائیں بائیں پھوٹنے والی سڑکیں بھی اسی نئے لاہور کا حصہ بنیں۔ لاہور ریلوے سٹیشن 1859ء میں قائم ہوا تو اسے سڑکوں کے ذریعے مال روڈ سے بھی ملایا گیا۔
اس زمانے کی چیف کورٹ آف پنجاب (اب لاہور ہائیکورٹ) کے پہلو میں فین روڈ ہے۔ یہ سر ہنری فین (Henry Fane)کے نام سے منسوب ہے جو برٹش ہندوستان میں آئر لینڈ سے تعلق رکھنے والا کمانڈر انچیف تھا۔
ہائیکورٹ کے عقب میں ایک چھوٹی سڑک اب بھی ٹرنر روڈ کہلاتی ہے جو فین روڈ سے جڑ جاتی ہے۔ یہ الوائن ٹرنر (Alweyn Turner)کے نام سے منسوب ہے جو برٹش دور کا ایک نامور وکیل اور جج تھا۔

مال روڈ پر دوبارہ آئیں تو ریگل پر بائیں ہاتھ ہالز روڈ آتی ہے جو اَب الیکٹرانکس کی بڑی مارکیٹ ہے۔ یہاں چار بڑے ہال تھے جو نمائشوں اور اجتماعات کیلئے استعمال ہوتے تھے۔ اسی لیے اس کا نام ہالز روڈ ہے۔ یہ ہال وقت کے ساتھ ختم ہوکر کمرشل عمارتوں میں تبدیل ہو چکے۔

ہالز روڈ کی بغل میں بیڈن روڈ ہے جو مال روڈ کو میکلوڈ روڈ سے ملاتی ہے۔ اس کا نام Sir Cecil Beadon کے نام پر رکھا گیا جو بنگال کا لیفٹیننٹ گورنر تھا اور جس نے بطور کمانڈر 1857ء کی بغاوت کو فرو کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

مال روڈ پر چیئرنگ کراس‘ جو اَب فیصل چوک ہے‘ لندن میں واقع چیئرنگ کراس کی طرز پر بنایا گیا تھا اور نام بھی یہی رکھا گیا تھا۔ یہاں ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ بھی بنایا گیا تھا۔
چیئرنگ کراس کے سامنے قرطبہ چوک جانے والی سڑک بظاہر اسی مجسمے کی رعایت سے کوئنز روڈ کہلاتی ہے۔ یہاں برطانوی افسروں اور امرا کی رہائش گاہیں تھیں۔
ہائیکورٹ کے مقابل مال روڈ سے ایک اور سڑک پھوٹتی ہے جس کا نام میکلوڈ روڈ ہے۔ یہ سڑک سر ڈونالڈ فرائل میکلوڈ کے نام سے منسوب کی گئی تھی۔ ڈونلڈ میکلوڈ نے لاہور میں کافی کام کیے۔ اورینٹل کالج کی داغ بیل بھی ڈالی اور اس کا بڑا کتب خانہ بھی اس کی موت کے بعد پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری کا حصہ بنا۔ لاہور ریلوے سٹیشن بنانے میں بھی اس کا اہم حصہ تھا اور بظاہر اسی لیے یہ سڑک اس کے نام سے منسوب ہوئی۔

میکلوڈ روڈ پر جہاں لاہور ہوٹل ہے‘ ایک سڑک نکلسن روڈ اس سے پھوٹتی ہے جو قلعہ گجر سنگھ کی طرف سے ایمپریس روڈ جاتی ہے۔ نکلسن روڈ‘ جون نکلسن کے نام سے منسوب ہوئی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا فوجی افسر اور آئرش تھا۔ نکلسن 1857ء کی بغاوت میں دہلی میں مارا گیا تھا۔

ایمپریس روڈ ملکہ وکٹوریہ کے نام سے منسوب تھی اور یہ شملہ پہاڑی سے ریلوے سٹیشن کو جانے والی سڑک ہے۔ اسی پر ریلوے ہیڈ کوارٹرز بھی قائم کیے گئے تھے۔

ایجرٹن روڈ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر رابرٹ ایجرٹن کے نام پر تھی۔ اسی روڈ پر واقع فلیٹیز ہوٹل ایک اطالوی تاجر انڈریا فلیٹی نے 1880ء میں قائم کیا تھا۔ ان دنوں ایسے ہوٹل کی گوروں کو سخت ضرورت تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح سمیت نامور ترین افراد مثلاً مارلن برانڈو‘ ایوا گارڈنر بھی یہاں مقیم رہے ہیں۔

ڈیوس روڈ شملہ پہاڑی سے اَپر مال روڈ کو ملاتی ہے۔ یہ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر رابرٹ ہنری ڈیوس کے نام پر تھی جو 1871ء میں گورنر پنجاب تھا۔ ویلز سے تھا اور اس نے لاہور چڑیا گھر اور میو سکول آف آرٹس (موجودہ این سی اے) کا ادارہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

سر لارڈ میو 1869ء سے 1872ء تک وائسرائے یعنی گورنر جنرل ہندوستان رہا۔ میو ہسپتال بھی اسی کے نام سے منسوب ہے لارڈ میو کا اصل نام رچرڈ ساؤتھ ویل بورک تھا اور وہ آئر لینڈ کی میو ریاست کا چھٹا ایرل (Earl) تھا۔ انڈیمان کے دورے پر وہاں سزا کاٹنے والے ایک آفریدی پٹھان نے اسے قتل کرکے اس کے عہدے اور زندگی کا خاتمہ کیا تھا۔

برطانوی فوجی چیمبرلین کے نام پر موجود سڑک‘ جو مسجد مائی لاڈو کو سرکلر روڈ سے ملاتی ہے‘ ڈپٹی کمشنر برانڈرتھ کے نام پر برانڈرتھ روڈ‘ سر رابرٹ منٹگمری (لیفٹیننٹ گورنر پنجاب) کے نام پر منٹگمری روڈ‘ کمشنر لاہور کے نام پر کوپر روڈ جہاں خواتین کا کالج اب بھی موجود ہے‘ چیف کمشنر پنجاب سر جون لارنس کے نام پر بنی سڑک‘ جو ریگل چوک مال روڈ سے چائنہ چوک کو ملاتی ہے اور جس پر لارنس کے نام کا لارنس گارڈن موجود ہے

24/08/2025

باتیں لاہور کی
یادیں لاہور کی
** لکشمی چوک سے لاہور ریڈیو سٹیشن تک**
ایک دور ایسا بھی تھا جب ہمیں زمانہِ طالبعلمی میں سکوں کو چمکانے کا جنون تھا.
اکثر دوست چونی کو ایڑی سے رگڑ کر اور کبھی لیموں کے رس اور راکھ سے رگڑ کر بھی ان سکوں کو چمکاتے تھے.
پھر ان سکوں سے کچھ خریداری کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا. ان سکوں کو اسقدر محنت اور محبت سے چمکانے کی یہ خبر شائد کسی نے ٹکسال والوں کو کر دی
اور انہیں ہمارا یہ شوق ایک آنکھ نہ بھایا اور ہماری اس بات سے خفا ہو کر ٹکسال والوں نے سکوں کی دھات ہی بدل دی اور ایلمونیم کے سکے ڈھال دئیے.
یعنی
نہ رہے بانس نہ بجے بانسری.

بات ایڑی سے رگڑ کر چونی چمکانے سے شروع ہوئی اور

معاً خیال آیا کہ اُس دور میں اس چونی سے ہم کیا کچھ نہ خریدتے تھے. اس چونی میں ہاف سیٹ چائے مل جاتا تھا. اور ہمارے سکول میں چاچا نان ٹکی والا ایک نان اور دو قیمے کی ٹکیاں بہت خوش ہوکر بیچتا تھا

داتا صاحب، بھاٹی اور لوہاری گیٹ سے چار آنے فی
سواری کے حساب سے لکشمی چوک اور لاہور ریلوے اسٹیشن کو تانگے جاتے تھے. چار سے چھ سواریوں کا منتظر کوچبان تانگے کے پائیدان پہ کھڑا ہوکر تانگے کی چھت سے ذرا گردن بلند کر کے اپنے پھیپھڑوں کی بھر پور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اونچی آواز میں
اعلان کر کے سواریوں کو متوجہ کرتا
**اے لکشمی چوک اے **
اور ریلوے اسٹیشن جانے والے کوچبان سٹیشن کا اعلان کرتے نظر آتے تھے

**اے ٹیشن اے، چلو جی ٹیشن اے**
یہ تانگے فرادا سواری کی سہولت مہیا کرتے تھے . اور ہم اکثر بھاٹی یا لوہاری سے اس تانگے پہ سوار ہو کر لکشمی چوک پہنچ جاتے
اور پھر سینما گھروں اور نگارستانوں کے گڑھ لکشمی چوک کی رونق سے لطف اندوز ہوتے،
اس لکشمی چوک سے پاؤں پاؤں ریڈیو سٹیشن لاہور واقع شارع عبدالحمید بن بادیس پہنچ جاتے تھے.
اس تاریخی لکشمی چوک کے رونق میلہ سے لطف اندوز ہوتے ہمیں ریڈیو سٹیشن تک پہنچنے کا احساس تک نہ ہوتا
اس دور میں اس لکشمی چوک سے ریڈیو پاکستان لاہور تک پہنچنے میں، راہ میں بیشمار سینما گھروں کی رونقیں آباد تھیں
ہم جیسے ہی نسبت روڈ سے لکشمی چوک پار کر کے ایبٹ روڈ پہ بمشکل تمام چند قدم ہی آگے بڑھتے تو بائیں ہاتھ پر نشاط سینما دیکھنے کو ملتا اور دائیں گردن گھما کر دیکھنے پہ کیپٹل سینما پہ فلم بینوں کی قطاریں دیکھنے کو ملتیں اور کیپیٹل سینما کے ہی بالمقابل اوڈین سینما پہ نگاہ پڑتی تو مشہور زمانہ اداکار اعجاز اور اداکارہ شمیم آرا کی فلم
** لاکھوں میں ایک **
کے رنگین بورڈ اور تماشائیوں کے فلم ٹکٹ خریدنے کی دھکم پیل دیکھنے کو ملتی.
بس یوں جانئے کہ شائقین اپنے پسندیدہ اداکاروں کی فلمیں دیکھنے کے لیے کس قدر پرجوش اور جزباتی ہوتے تھے ٹکٹ کے حصول کی جد و جہد اس کا منہ بولتا ثبوت تھی.
فلم لاکھوں میں ایک کی یاد سے، اس وقت اچانک میرے کانوں میں اس فلم کا مشہور نغمہ
سن ساجنا دکھی من کی پکار ہوا ویری سنسار
گونج اٹھاہے

نشاط سینما سے
شروع ہونے والے اس روزانہ کے سفر میں لکشمی چوک سے ملحقہ ایبٹ روڈ پر واقع میٹروپول، مبارک، خیام اور محفل سینما تک پہنچ جاتا
مختلف فلموں کے خوبصورت پوسٹر، رنگین اشتہارات اپنی خاموش زبان میں فلم کی مختصر کہانی بیان کرتے نظر آتے تھے. اور نگارستان کے اس علاقے میں راہگیروں کی رونق قابل دید ہوتی تھی.
اس پیدل سفر کے دوران ٹکا ٹک بیچنے والوں کے کلاسیکل سروں اور ردھم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے قدم خود بخود تیز اٹھنے لگتے اور ہمیں پیدل سفر کے اختتام کا تب احساس ہوتا جب اچانک اسی ایبٹ روڈ پہ واقع محکمہ اطلاعات کے بڑے سبز بورڈ پہ نظریں جا ٹھہرتیں ،
جس پہ سفید جلی حروف میں
Government of Pakistan
Information Department
لکھا ہوتا تھا.
پی ٹی وی کی عمارت کے تقریباً بالمقابل . پی اے ایف کا ریکروٹمینٹ دفتر واقع تھا. یہ سب دلچسپ مناظر دیکھتے دیکھتے ہماری پیدل شاہی سواری لاہور ریڈیو سٹیشن جا پہنچتی تھی.
سکوں کے چمکانے کے چکر میں ہم نے چونی کی داستان اور قوتِ خرید کا تذکرہ کیا یہ اسی چونی کا کمال ہے کہ ہمیں آج فلم نگری اور نگار خانوں کے گڑھ لکشمی چوک سے ریڈیو پاکستان لاہور تک کے پیدل سفر کی بہت سی خوشگوار یادوں کی کہانی یاد آگئ
سوچتا ہوں لاہور تو وہی ہے مگر وقت اور حالات نے کیا کچھ نہ بدل ڈالا
چونی کا سکہ نظروں سے اوجھل ہو نے کے ساتھ ساتھ لاہور شہر سے تانگے کی شاہی سواری بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دم توڑ گئ
آج کے لکشمی چوک کا حلیہ ہی بدل چکا ہے.
ہجوم تو پہلے سے بھی ذیادہ ہے مگر لکشمی چوک کی وہ رونقیں تمام ہوئیں جب نسبت روڈ پہ تانگوں کے کوچبان بھاٹی، لوہاری اور داتا صاحب کی سواریوں کو پکارتے تھے
بھاٹی جی
بھاٹی
اے لوہاری، داتا صاحب جی
آجاؤ باؤ جی بس تہاڈا ای انتظار سی.
اور مجھے پر رونق لکشمی چوک کی تلاش.....
ہسدا وسدا رہوئے لہور
لہور لہور اے جی
فصاحت علی سید
گلاسگو

دہلی، جالندھر اور انبالہ سے منسوب کاروبار، ’لاہور میں محبتیں بانٹی جاتی ہیں۔
22/07/2025

دہلی، جالندھر اور انبالہ سے منسوب کاروبار، ’لاہور میں محبتیں بانٹی جاتی ہیں۔

لاہور 1972 — یادوں، گلیوں اور وقت کا شہریہ نایاب تصویر 1972 کے لاہور کی ایک جھلک پیش کرتی ہے —سادگی، ورثے، اور پرانی طرز...
16/07/2025

لاہور 1972 — یادوں، گلیوں اور وقت کا شہر
یہ نایاب تصویر 1972 کے لاہور کی ایک جھلک پیش کرتی ہے —
سادگی، ورثے، اور پرانی طرزِ زندگی سے بھرپور ایک لمحہ۔
لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ تصویر لاہور کے کس مقام پر لی گئی تھی۔
کیا آپ اس جگہ کو پہچان سکتے ہیں؟

18/04/2025

**اجڑی انارکلی
اور
ایسٹر مبارک **

میرا بچپن، جوانی اور زندگی کی چوتھی دہائی کے پائیدان پہ قدم رکھنے تک کا وقت تو لاہور ہی میں گزرا ہے اور ہماری تربیت کچھ ایسے ماحول میں ہوئی کہ بچپن سے ہی چند خصوصی مسیحی تہوار جیسے کرسمس, ایسٹر اور گڈ فرائی ڈے کا تذکرہ ہمارے گھر میں ہوتا ہی رہتا تھا.
شائد اس لئے کہ ابا مرحوم نے سیکنڈری سکول تک تعلیم مشنری سکول سے حاصل کی تھی.

پھر جب دورانِ ملازمت ہماری بنک سکوئیر برانچ لاہور میں تعیناتی ہوئی تو مسیحی دوست بھی شریک کارکن تھے اور ہم ان کو کرسمس اور ایسٹر کی تہنیت بھی پیش کرتے تھے اور ان تہواروں پہ آن سے کیک اور مٹھائی کا مطالبہ بھی کرتے تھے.

بنک آنے والے چند ایسے کسٹمر بھی تھے
جن کو ہم کرسمس اور ایسٹر پہ مبارک باد پیش کرتے تھے. اور یوں ایک دوسرے کی خوشیوں میں شراکت کی سانجھ کا عملی مظاہرہ ہوتا تھا.

سمن آباد میں میرے پڑوس میں دو تین مسیحی گھرانے آباد تھے جن کو ہم ہر عید پہ کیک بھیجتے تھے.
باقی گلاسگو میں تو ہمارا اپنے پڑوسیوں سے اور ان کا ہمارے ساتھ مثالی بھائی چارے کا رشتہ گزشتہ تین دہائیوں سے قائم ہے.

آج ینگ فوکس لیگ کے تین ارکان، بشمول میرے، پروفیسر مسعود زیدی، اور مشہور سٹیج، ٹی وی اور ریڈیو کے فنکار جاوید رضوی صاحب کے ہمراہ ہم انارکلی بازار، نیو انارکلی بازار، کچہری روڈ نیلا گنبد، بخشی مارکیٹ، خانم بازار، مشہور بانو بازار، دھنی رام روڈ اور انارکلی کی نواحی گلیوں اور مارکیٹوں میں.
گھومنے نکل گئے.
بچپن کی یادیں خوب خوب تازہ کیں وہ زمانہ یاد آیا جب اس علاقے میں ہم نیکر اور بنیان پہن کر بھاگے پھرتے تھے.
انارکلی بازار کے وسط میں دھنی رام روڈ کے بالکل بالمقابل واقع قدیمی درسگاہ سینٹ فرانسز ہائی سکول میں داخل ہوگئے. میرے دو بڑے بھائی اس سکول ہی میں پڑھتے تھے.
اس علاقے کی ایک ایک عمارت، دوکان اور دوکانداروں سے وابستگی کے قصے، سنتے اور سناتے مختلف گلیوں اور بازاروں سے جڑی یادوں کی سانجھ کرتے آہستہ آہستہ آگے رواں دواں تھے.
رستے میں کسی دوکان میں داخل ہوکر ان دوکانوں سے جڑی اپنی پرانی محبتوں کے قصےان دکانداروں کو سناتے سناتے اور وہاں بیٹھی آج کی نسل اپنے اجداد کا تزکرہ سن کر حیرت میں گم ہو جاتی یوں دلچسپ یادوں کے کیواڑ بھی کھلنے لگتے اور کڑی سے کڑی جڑنے لگتی.

قدم قدم پہ لاہور کی روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا، دوکاندار ہمیں چائے پانی سے تواضع کی دعوت دیتے ہم شکرگزار ہوتے ہوئے معزرت پیش کرتے اور خراماں خراماں اپنے، پرانے لاہور کی سیر کے سفر کو جاری رکھتے.

اس سیر کے سفر میں انارکلی میں داخل ہونے سے پہلے ہماری ملاقات سو سال سے قدیمی ادارے پبلک ڈرائنگ سٹیشنری کے روح رواں جناب وقار اشرف جعفری صاحب سے ہوگئ.
انہوں نے ہم تینوں کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور اپنے سو سالہ قدیمی ادارے کی تاریخ کا مختصر احوال سنایا اور محبتوں سے لبریز گرم گرم مشروبات سے ہماری تواضع بھی کی.

ان سے اجازت طلب کی اور ایس محکم الدین اینڈ سنز بیکرز کے سید محکم الدیں نقوی صاحب نے نہ صرف ہمارا شایانِ شان انداز میں استقبال کیا. بلکہ بیکری کے لزیز اور خستہ بسکٹوں سے ہماری تواضع بھی کی.
ایک سو پچاس سالہ قدیمی بیکری کے بارے میں خاکسار نے ایک کالم دو ڈھائی سال پہلے لکھ رکھا ہے. محکم الدین بیکری کے نقوی صاحب نے ہماری، بھائیوں اور قریبی عزیزوں سے بڑھ کر عزت افزائی اور پزیرائی فرمائی ان کا جس قدر بھی شکریہ ادا کروں کم ہے.

انارکلی کی اس سیر نے ہمیں کافی رنجیدہ بھی کیا،. آج کے انارکلی بازار کی شکل و صورت ہی بدل چکی ہے.

ہم شیخ عنایت اللہ اینڈ سنز کی ساٹھ کی دہائی کا سپر سٹور تلاش کرتے رہے، ہم شہرت یافتہ بمبئے کلاتھ ہاؤس کے وہ شو کیس تلاش کرتے رہے جن میں مردانہ سوٹوں کا کپڑا بہت دلکش انداز میں سجایا جاتا تھا، کہ ہر آنے والے کا دل چاہتا تھا کہ ایک دو سوٹ تو خرید ہی لے، بیسٹ واچ کمپنی اور ہارڈویئر کے قدیمی اور مشہور دوکان بمبئے سٹور ڈھونڈتا رہا، شہرت یافتہ پاکستان میڈیسن کمپنی کی تلاش میں مہو رہا ، چاولہ بوٹ اور کرنال شوز والوں کا کوئی اتا پتہ نہ مل سکا. شیریں کدہ اور قصر شیریں کے قصر کے آثار تک بھی نہ دیکھنے کو مل سکے.

میں مٹھائی کی مشہور زمانہ دوکان جالندھر موتی چور والوں کی دوکان دیکھنے تیز تیز قدم اٹھاتا گنپت روڈ کے کونے پہ جا کھڑا ہوا
اور یہ دیکھ کر دل مضمحل اور اداس سا ہوگیا کہ اس دوکان پہ بورڈ تو جالندھر موتی چور کا ہی تھا مگر اس دوکان پہ لڈو مٹھائی وغیرہ دیکھنے تک کو بھی نہ ملے بلکہ سموسوں کے خریداروں کا کافی رش تھا.
انارکلی کے اجڑنے کا از حد رنج ہوا.
کسی دور میں کچہری روڈ پہ
قانونی کتب فروشوں کی بہت سی دوکانیں تھیں. اب تو ایک دو لاء بک سٹور ہی موجود ہیں. باقی سب بک چکے ہیں.

اسی کچہری روڈ پر دیوار کے ساتھ ساتھ پچیس تیس ٹائپسٹ ہو روز دیکھنے کو ملتے تھے. انکے اڈے دو سٹول یا ایک سٹول، ٹائپ مشین اور ایک کرسی پہ مشتمل ہوتے تھے. سامنے کے سٹول پہ وہ اپنی ٹائپ مشین سجاتے تھے. اور دوسرے سٹول یا کرسی پہ بیٹھ کر لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق چٹھیاں، قانونی دستاویزات کی کاپیاں ٹائپ کر کے دیتے. طالب علموں کے اردو اور انگریزی کے تحقیقاتی مقالے ٹائپ کرتے تھے. یہ ایک باعزت روزگار تھا اور دن بھر ٹائپسٹ اپنی ٹائپ مشینوں پہ مصروف رہتے ان کی ٹائپ مشینوں کی چابیاں رولر پہ ٹک ٹک کے جلترنگ سے بجاتی رہتی تھیں.
آج اس دیوار کے ساتھ فقط دو تین ٹائپسٹ بیٹھے تھے. باقی سب یا تو مر کھپ گئے یا پھر کمپیوٹر کی سہولت نے انہیں چاروں خانے چت کر دیا تھا.
دلِ رنجیدہ کے ساتھ واپسی اختیار کی اور مشہور ادارے بائبل سوسائٹی کا بورڈ دیکھ کر قدم جم گئے اور گیٹ پہ موجود ذمہ دار سے علیک سلیک کے بعد بائیبل سوسائٹی کے میوزیم کو دیکھنے کا کہا، میوزیم کے اہلکاروں نے مسکراہٹوں بھری پزیرائی سے ہمارا استقبال کیا. فلم بندی اور تصاویر کی ممانعت کے باوجود ہمیں عکس بندی کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی.
میوزیم سے نکلتے ہوئے میں نے مناسب رقم چندے کے ڈبے میں بھی ڈالی تفاصیل بتانا نمود و نمائش کے زمرے میں آ جاتا ہے. اس ضمن میں تصاویر پروفیسر مسعود بھیجیں گے تو آپ کو روانہ کروں گا.
ہم نے میوزیم کے عملے کو ایسٹر کی تہنیت پیش کی سب سے مصافحہ بھی کیا.
وہاں کا عملہ ہم سب سے بیحد خوش تھا.
بھائی چارے کا یہ اظہار جغرافیائی حدود کا پابند نہیں. ملن ساری اور محبت کا یہ اظہار لاہور، پاکستان میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا یورپ اور امریکہ میں رہتے ہوئے ہم تارکین وطن کیلئے ازحد ضروری ہے.
ہم یورپ اور امریکہ پہنچ کر اظہار تشکر کے طور پر، اپنے خود اختیاری وطن کی تعریف و توصیف تو خوب کرتے ہیں
جو ازحد ضروری بھی ہے.
کہ وطن عزیز کی نسبت ان ممالک کا معیارِ زندگی اور سہولتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے
مگر دوستو ایسٹر یا کرسمس پہ ان کی خوشیوں میں شامل ہونے کےلئے ہمیں بھی عملی مظاہرہ کرنے میں تاخیر سے کام نہیں لینا چاہئے
اپنے وطن اور خود اختیاری وطن سے محبت ہم تمام تارکین وطن پہ لازم ہے. مجھے فخر ہے کہ میں ہر رات سونے سے پہلے پاکستان اور یوکے کے استحکام کی دعا مانگتا ہوں
میں دونوں ملکوں میں بسنے والی عوام کی فلاح اور پر سکون زندگی کی دعا مانگے بغیر کبھی نہیں سوتا
کیا آپ بھی؟؟؟
پاکستان کا تو بھول جائیں کیا آپ بھی سونے سے پہلے اپنے پیارے خود اختیاری وطن کی سلامتی و استحکام اور خوش حالی کی دعا مانگتے ہیں
اگر ایسا نہیں ہے تو آپ اس خود اختیاری وطن کی توصیف اور اس سے محبت کے کھوکھلے دعویدار ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں.

وفاداری بشرطِ استوار اصل ایماں ہے
تحریر
فصاحت علی سید
گلاسگو
حال وارد
لاہور

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Papoo Lahori posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category