01/05/2026
رائیونڈ مرکز میں ۔ جا کر ایک بات دل میں بہت واضح ہو گئی کہ جو مزہ اور جو لطف تبلیغ والوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر، سنت کے مطابق سادہ دال، روٹی اور کڑی کھانے میں ہے، وہ بڑے سے بڑے فائیو اسٹار ہوٹلز میں بھی نہیں ملتا۔
میں نے زندگی میں مہنگے ریسٹورنٹس اور فائیو اسٹار ہوٹلز بھی کھانا کھایا ہے، مختلف جگہوں کا سفر بھی کیا ہے… مگر وہاں کا ذائقہ صرف زبان تک محدود رہتا ہے، جبکہ یہاں اس سادہ کھانے میں ایک عجیب سی طمانیت اور سکون شامل ہوتا ہے۔
یہ صرف کھانا نہیں، یہ خلوص ہے۔
یہ صرف دال روٹی نہیں، یہ محبت اور اخوت ہے۔
یہ صرف سادہ ماحول نہیں، یہ وہ فضا ہے جہاں دل صاف ہوتے ہیں اور نیتیں خالص ہوتی ہیں۔
تبلیغ والوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانے میں نہ کوئی تکلف ہوتا ہے، نہ کوئی دکھاوا… سب ایک صف میں، ایک جیسا کھانا، ایک جیسا انداز۔ یہی سادگی دل کو چھو لیتی ہے اور انسان کو اس کے اصل مقصد کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اسی ماحول میں یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ تبلیغی جماعت کا اصل کام کیا ہے۔
تبلیغی جماعت ایمان کو مضبوط بنانے کی محنت کرتی ہے، دلوں میں یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ ایک اللہ ہی سب کچھ کرنے والا ہے۔ یہ ہمیں حضرت محمد ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کے طریقوں پر چلنے کی دعوت دیتی ہے، اور یہی بتاتی ہے کہ کامیابی اسی میں ہے۔
تبلیغ ہمیں ایک واضح وژن دیتی ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں، اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اب یہ ذمہ داری ہماری ہے کہ دین کو پوری دنیا میں عام کریں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو دلوں میں زندہ کریں۔ خود بھی عاشقِ رسول بنیں اور لوگوں کو بھی اللہ والا اور عاشقِ رسول بنائیں۔
یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم خود سنتوں پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی سنتوں پر چلنے والا بنائیں، اپنی زندگی کو حضور ﷺ کے طریقوں کے مطابق ڈھالیں اور اس پیغام کو عام کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ تبلیغ کا راستہ اللہ سے دوستی کا راستہ ہے، اور یہ حضرت محمد ﷺ کے عشق کا راستہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم اس دنیا میں صرف کھانے پینے کے لیے نہیں آئے، بلکہ دین کی محنت کرنے، نیکی کو پھیلانے اور برائی سے روکنے کی ذمہ داری لے کر آئے ہیں۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ تبلیغ کی سادہ دال، روٹی اور کڑی میں وہ مزہ آتا ہے جو دنیا کے کسی مہنگے کھانے میں نہیں ملتا… کیونکہ وہاں ذائقہ زبان کو ملتا ہے، اور یہاں سکون دل کو نصیب ہوتا ہے۔
آخر میں ایک دعوت ہے: آپ بھی ضرور اپنا کچھ وقت تبلیغی جماعت میں لگائیں، نیت کریں اور ارادہ کریں کہ اپنی زندگی کو دین کے لیے وقف کرنا ہے۔
از قلم: اویس رحیم ن