26/11/2020
اللہ تعالیٰ نے انسان میں فطرتاً غصہ رکھا ہے۔ دوسرے فطری جذبات کی طرح غصہ بھی ایک جذبہ ہے جو کبھی بھی ایک عام سی ناراضگی سے بڑھ کر شدید غصہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور جب کسی انسان کے مزاج اور مرضی کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو وہ غصہ کا اظہار کرتا ہے۔غصہ کی حالت میں انسانی دماغ کا ایک حصہ جس کو Frontal Lobeکہتے ہیں اسے دیگر جذبات کی طرح کنٹرول کرتا ہے لیکن جیسے ہی کسی شخص کے سامنے کسی قسم کی اشتعال انگیز اشیاء،افراد یا کوئی ایسی صورتِ حال سامنے آتی ہے تو وہ شخص اپنی عقلی صلاحیتوں کا اختیار کھو بیٹھتا ہے۔اور بعض اوقات اس قدر طیش میں آجاتا ہے کہ اس کے لیے اپنی دماغی حالت کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے، آنکھوں کی پتلیاں پھیلنے اورسکڑنے لگتی ہیں،دوران خون بڑھ جاتا ہے،اعصاب اور پٹھے کھچنے لگتے ہیں اور اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں اسے کئی مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک عقل مند انسان صبر و تحمل سے کام لیتا ہے اور ہر ممکن حد تک لڑائی جھگڑے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔اگر ایک شخص اپنے غصے پر قابو پانا سیکھ لے تو وہ اپنے مزاج کو بھی اچھی طرح سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اپنی زندگی کو خود سے کنٹرول کر سکتا ہے کیونکہ عموماً جو لوگ غصے پر کنٹرول نہیں کرتے ان کی اس عادت سے دوسرے لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اگر اس شخص کو غصہ دلائیں گے تو یہ اشتعال میں آکر کوئی بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔بعض اوقات اس قسم کے فیصلوں کے نتیجہ میں نہ صرف اس شخص کی زندگی بلکہ اس تعلق رکھنے والے دوسرے لوگوں کی زندگی بھی تباہ ہو جاتی ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ وَ الۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ۔
’’جو متقی خوشحالی میں بھی اور تنگ دستی میں بھی خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ کو دبانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور اللہ محسنوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
(آل عمران آیت 135)
یعنی اللہ تعالیٰ اپنا غصہ دبانے والے سے بھی محبت کرتا ہے۔اگر ہم اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی دیکھیں تو غصے کو بہت سی برائیوں کی جڑ قرا ردے کر اس پر قابو پانے کا حکم ہے۔